طوعاً و کرہاً

قسم کلام: متعلق فعل

معنی

١ - خواہی نخواہی، چار و ناچار، جبراً فہراً۔ "آخر کافی رد و قدح کے بعد طوعاً و کرہاً اجازت دے دی گئی۔"      ( ١٩٧٩ء، جگر مراد آبادی، آثار و افکار، ١٩٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'طوع' کے ساتھ 'اً' بطور لاحقہ تمیز لگا کر 'واؤ' بطور حرف عطف لگانے کے بعد عربی سے مشتق 'کرہاً' لگانے سے مرکب عطفی بنا۔ اردو میں بطور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٤٢ء کو "الف لیلہ" کے حوالے سے عبدالکریم کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خواہی نخواہی، چار و ناچار، جبراً فہراً۔ "آخر کافی رد و قدح کے بعد طوعاً و کرہاً اجازت دے دی گئی۔"      ( ١٩٧٩ء، جگر مراد آبادی، آثار و افکار، ١٩٨ )